Sunday, April 19, 2015

این اے 246 میں پری پول رگنگ


این اے 246 میں پری پول رگنگ کا آغاز بہت پہلے سےہوچکا ہے۔ مہم کے ابتدائی دنوں میں پیش آنے والے واقعے یعنی نائن زیرو پر جلسہ کرنے کی ضد اور اسکے بعد ایسے ہی واقعات کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ حکومت، خفیہ ایجنسیاں، طالبان  دہشتگردوں کے ایجنٹ، پولیس اور رینجرز اور قلم فروش صحافی  انتہائی بے شرمی اور دیدہ دلیری کے ساتھ ان انتخابات میں کسی بھی صورت اپنی اور طالبان کی پسندیدہ اور منظور نظر جماعت پی ٹی آئی کوفاتح بنانے پر کمر بستہ ہوچکے ہیں۔ یہ عمل اتنی بے شرمی اور بے  حیائی کے ساتھ جاری ہے کہ عوام حیران ہیں کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے! کیایہ لوگ اتنے بھی گر سکتے ہیں کہ دن کی روشنی میں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔
اس پورے عمل کی ابتدا ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا ٹرا یئل سے ہوتی ہے۔  چند ٹکوں اور بے حمیتی پر مبنی  ترغیبات کے عوض قلم کی حرمت کا سودا کرنے والے صحافیوں کو خریدا جاتا ہے اور میڈیا ہاؤسز خطیر رقموں،  بڑی بڑی ترغیبات اور کہیں دھمکیوں کے زیر اثر ایم کیو ایم کے خلاف کردار کشی کی ایک بہت بڑی مہم شروع کردیتے ہیں۔  ٹی وی چینلز پر روزانہ کئی کئی گھنٹے صحافتی اخلاقیات کے جنازے نکالے جاتے ہیں اور اس عمل میں بے حیائی اور بے شرمی کی تمام حدود پار کرلی جاتی ہیں۔
اس کے بعد رینجرز اور پولیس جن کی تنخواہوں  کا 75 فیصد سے زیادہ کراچی کے عوام کی جیبوں سے ادا کیا جاتا ہے میدان میں اترتی ہیں۔ کراچی کے باشعور عوام کو زندہ لاشیں کہنے اور پھر انہی زندہ لاشوں سے ووٹ کی بھیک مانگنے والوں کی ہر طرح مدد کیلئے کمر بستہ یہ لوگ اپنی طاقت کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے تو اس حلقے سے ایم کیو ایم کی طاقت یعنی اسکے کارکنان کو ختم کرنے کیلئے اندھا دھند گرفتاریاں کرتے ہیں، گھروں پر رات کی تاریکی میں چھاپے مار کر اور پوری پوری بستیوں کا محاصرہ کرکے  شریف شہریوں کی تذلیل کرنے اور انہیں ایم کیو ایم سے دور کرنے کی کوششیں کرتے ہیں لیکن جب انکی یہ تمام کوششیں بھی ناکام ہوتی نظر آتی ہیں اور الطاف حسین سے محبت کرنے والے اپنی وفادریاں تبدیل کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے تو دوسرے حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔
کراچی میں شر اور فساد پھیلانے کیلئے اور اسکی آڑ میں ایم کیو ایم کے کارکنان کو گرفتار کرنے کیلئے پی ٹی آئی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایم کیو ایم کے صدر دفاتر سے بالکل ملحق جناح گراؤنڈ میں جہاں اسکے بیس ہزار شہیدوں کی یادگار بھی موجود ہے اور جسے کراچی سمیت ملک بھر کے حق پرست عوام انتہائی احترام کا مقام سمجھتے ہیں وہاں جا کر جلسہ کرے۔یہ کھلی شر انگیزی تھی۔ یہ واضح طور پر انتخابی ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اڑا دینے کے مترادف تھا۔ یہ اصول ہے کہ کسی بھی گروہ کو آیا وہ سیاسی ہو یا مذہبی یا سماجی کبھی بھی کسی ایسی جگہ اجتماع کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی جہاں اسکے  مخالفین کی اکثریت ہو یا مخالف کے کسی بھی عمل سے  اسکی دل آزاری کے نتیجے میں نقص امن کا خطرہ ہو۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے طویل راج کے دوران کبھی کسی مسجد کے آگے ہندوؤں کو یا مندر کے آگے مسلمانوں کو اجتماع کی یا جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی۔ یہی صورتحال  آزادی کے بعد پاکستان  میں بھی رہی ہے اور انتظامیہ کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ ایسی کوئی اجازت نہ دی جائے جس سے ایک گروہ کی دلآزاری اور اسکے نتیجے میں نقص امن کا خطرہ ہو۔ جہاں ایسا ہوا  وہاں کبھی اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے جسکی کچھ مثالیں ہماری حالیہ تاریخ میں موجود ہیں۔
جناح گراؤنڈ ایم کیو ایم کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہے، یہیں ایم کیوایم کے بیس ہزار سے زیادہ شہداء کی یادگار بھی ہے جہاں لوگ عقیدت و احترام کے ساتھ حاضری دیتے ہیں اور شہیدوں کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کرتے ہیں ، یہیں خورشید بیگم میموریل ہال میں ایم کیو ایم کے دفاتر بھی ہیں اوراس سے بالکل متصل  ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کی رہائش گاہ المعروف نائن زیرو بھی  واقع ہے جو ایم کیو ایم کا مرکز بھی ہے۔ اس حلقے کے عوام  کی  غالب ترین اکثریت گذشتہ اٹھایئس سال سے ایم کیو ایم کو ووٹ دیتی آئی ہے اور جناح گراؤنڈ کے آس پاس  کے گھروں کا تقریبا  سو فیصد ووٹ الطاف حسین کے حق میں جاتا ہے جن سے یہاں کے عوام دل سے محبت کرتے ہیں اور جسے تنگ دل مخالف اور قلم فروش صحافی خوف اور ڈر کہتے ہیں۔اگر عمران خان جیسا شخص جو نہ صرف پورے ملک میں بلکہ دنیا بھر میں ایک بدزبان اور سوچے بغیر بولنے والے شخص کی حیثیت سے بدنام ہے، اس مقام پر کھڑے ہوکر یہاں کے عوام کے محبوب قائد کے خلاف بے ہودہ گوئی کرتا ہے تو کیا یہاں اشتعال نہیں پھیلے گا؟ اور اس اشتعال کا نتیجہ کیا نکل سکتا تھا کیا انتظامیہ کو اس کا اندازہ نہیں تھا؟ یقینا  انتظامیہ اس بات کو جانتی تھی لیکن اس کے باوجود اس مقام پرپی ٹی آئی کو انکی سرگرمیوں کی اجازت دینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ کراچی کی انتظامیہ ایجنسیز، رینجرز اور حکومتی اداروں کے آگے یا تو بے بس ہوچکی ہے یا   پھر یہ ان سب کی ملی بھگت ہے اور اسکا مقصد بھی واضح ہے یعنی ایم کیو ایم کو صفحۂ ہستی سے مٹا کر کراچی پر طالبان کے قبضے میں مزاحم آخری رکاوٹ کو دور کردینا۔ 
یہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی  امن پسندی، معاملہ فہمی، دانش مندی اور دور اندیشی تھی کہ انہوں نے اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے  اپنے بیانات اور شرپسندوں کو جناح گراؤنڈ میں جلسے کی دعوت دے کراس بڑی سازش کو ناکام بنادیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ شرپسند جناح گراؤنڈ دیکھ کر ہی سمجھ گئے کہ یہاں جلسہ کرنا  ذلت و رسوائی کے اوراپنی بھد اڑوانے کے سوااور کچھ نتیجہ نہیں دے سکتا۔
اس کے بعدایم کیو ایم سے عوام کو بدظن کرنے کیلئے اور اسکے کارکنان میں مایوسی اور خوف پھیلانے کیلئے تابڑ توڑ چھاپے مارے گئے، لوگوں کو گھروں سے گرفتار کیا گیا اور انہیں شدید تشدد کے بعد نوے روز کے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی اور انکے اہل خانہ کی تذلیل اور تضحیک کی گئی  اور ان کومجرم ثابت کرنے کیلئے رسوا کن عرفیتیں انکے ناموں کے ساتھ لگائی گیئں۔
اگلے فیز میں ان لوگوں پر ہاتھ ڈالا گیا جو ایم کیو ایم  کے کارکن نہیں ہیں لیکن اسکی حمایت کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں شہر کے معزز کاروباری شخصیات ، معروف بلڈرز  اور سرکاری افسران شامل تھے۔ ان کے ساتھ بھی انتہائی ذلت آمیز سلوک کیا گیا اور اب یہ ستم رسیدہ جیلوں میں تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی  بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر  ان لوگوں کو گرفتار کیاگیا جنہوں نےایم کیو ایم کی حمایت کا جرم کیا تھا گو کہ وہ نہ ایم کیو ایم کےکارکن تھے نہ ہی اسکی مدد کرنے والے۔ ایسے ہی ایک فرزند کراچی طارق محبوب کو گھر سے گرفتار کیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں  حراست میں ہی شہید کر دیا گیا۔ طارق محبوب نے چند روز پہلے ہی ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات میں انکی حمایت کا اعلان کیا تھا جسکی سزا ان کی جان لے کر دی گئی۔
 اس سب کے باوجود ایجنسیز کے پالے ہوئے ان جعلی لیڈروں کو اپنی ذلت آمیز شکست کا پورا یقین ہے جس سے بچنے کیلئے یہ اپنے سرپرستوں سے عجیب و شریب فرمائشیں کررہے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں بیلٹ پیپرز کراچی میں نہ چھپیں، کبھی کہتے ہیں کہ بایو میٹرک نظام استعمال کیا جائے جبکہ یہ سسٹم وہ ہے جس نے اپنی کمزوریاں موبایئل سمز کی تصدیق کے دوران ظاہر کردی ہیں۔ لاکھوں کی تعداد عوام کی ایسی ہے جن میں قومی اسمبلی کے اسپیکر بھی شامل ہیں جن کے انگوٹھوں کے نشانات میچ نہ ہوسکے ۔ کبھی یہ رینجرز پر  عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں جو دراصل انہی کی پشت پناہی کررہی ہے اور کبھی انتخابی عملہ دوسرے صوبوں سے لانے کا مطالبہ کرکے کراچی کے عوام کو بے ایمان بنادیتے ہیں جبکہ انہی عوام سے ووٹ مانگنے یہ کراچی پر یلغار کئے ہوئے ہیں۔
ایک طرف یہ اور دوسری طرف پاکستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہے جو اپنی تاریخ کے سب سے گندے دور سے گذر رہا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور اینکر پرسن گھٹیا ، رسواکن اور ذلت آمیز صحافت کی وہ مثالیں رقم کررہے ہیں کہ تاریخ عالم میں اسکی مثال ڈھونڈے نہیں ملے گی۔ ایم کیو ایم کے عظیم الشان اور تاریخ ساز جلسے کی اخبارات میں انتہائی معمولی  کوریج اسکی مثال ہےجبکہ اس وقت پی ٹی آئی کے جلسے کیلئے گذشتہ رات سے ہی تمام چینلزاپنی تمام تر توانایئاں صرف کررہے ہیں۔
ان سب کے باوجود پولنگ والے روز عوام  ان سب بے ضمیر صحافیوں،  قلم فروش تجزیہ کاروں عوام کے ٹیکس پر پلنے والے سیکیورٹی اداروں اور ایجنسیز کے پالے ہوئے  نام نہادسیاستدانوں کو ذلت و رسوائی کے وہ طوق پہنايئں گے جنہیں وہ اتارنا چاہیں تو اتار نہ سکیں گے اور آنے والے دنوں میں یہ طوق انکے گلوں میں پھنستے چلے جایئں گے۔